دیوانِ غالب کاملردیف ے

آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے

۱

آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہےآتا ہے آ، وگرنہ یہ پا در رکاب ہے

۲

حیراں ہوں، دامنِ مژہ کیوں جھاڑتا نہیںخط صفحۂ عذار پہ گردِ کتاب ہے

۳

جوں نخلِ ماتم، ابر سے مطلب نہیں مجھےرنگِ سیاہِ نیل، غبارِ سحاب ہے

۴

ممکن نہیں کہ ہو دلِ خوباں میں کارگرتاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے

۵

ظاہر ہے، طرزِ قید سے، صیاد کی غرضجو دانہ دام میں ہے، سو اشکِ کباب ہے

۶

بے چشمِ دل نہ کر ہوسِ سیرِ لالہ زاریعنی یہ ہر ورق، ورقِ انتخاب ہے

۷

دیکھ، اے اسدؔ! بہ دیدہ باطن کہ ظاہراہر ایک ذرہ غیرتِ صد آفتاب ہے

۱۲۳ / ۱۹۳