دیوانِ غالب کاملردیف ے

کاوشِ دزدِ حنا پوشیدہ افسوں ہے مجھے

۱

کاوشِ دزدِ حنا پوشیدہ افسوں ہے مجھےناخنِ انگشتِ خوباں، لعلِ واژوں ہے مجھے

۲

ریشۂ شہرت دوانیدن ہے، رفتن زیرِ خاکخنجرِ جلاد، برگِ بیدِ مجنوں، ہے مجھے

۳

ساقیا! دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے، کہ آجآرزوئے بوسۂ لب ہائے مے گوں ہے مجھے

۴

ہو گئے باہم دگر، جوشِ پریشانی سے، جمعگردشِ جامِ تمنا، دورِ گردوں، ہے مجھے

۵

دیکھ لی جوشِ جوانی کی ترقّی بھی کہ اببدر کے مانند، کاہش روز افزوں ہے مجھے

۶

غنچگی ہے، بر نفس پیچیدنِ فکر، اے اسدؔ!وا شگفتن ہائے دل در رہنِ مضموں ہے مجھے

۱۲۶ / ۱۹۳