دیوانِ غالب کاملردیف ے

تر جبیں رکھتی ہے، شرمِ قطرہ سامانی مجھے

۱

تر جبیں رکھتی ہے، شرمِ قطرہ سامانی مجھےموجِ گردابِ حیا ہے، چینِ پیشانی مجھے

۲

شبنم آسا کُو مجالِ سبحہ گردانی مجھے؟ہے، شعاعِ مہر، زنارِ سلیمانی مجھے

۳

بلبلِ تصویر ہوں بے تابِ اظہارِ تپشجنبشِ نالِ قلم، جوشِ پریشانی مجھے

۴

ضبطِ سوزِ دل ہے وجہِ حیرتِ اظہارِ حالداغ ہے مُہرِ دہن، جوں چشمِ قربانی مجھے

۵

شوخ، ہے مثلِ حباب از خویش بیروں آمدنہے گریباں گیرِ، فرصت ذوقِ عریانی مجھے

۶

وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تارِ نفسناخنِ بریدہ ہے تیغِ صفاہانی مجھے

۷

ہوں ہیولائے دو عالم، صورتِ تقریر، اسدؔفکر نے سونپی خموشی کی گریبانی مجھے

۱۲۵ / ۱۹۳