دیوانِ غالب کاملردیف ے

ہوا جب حسن کم، خط بر عذارِ سادہ آتا ہے

۱

ہوا جب حسن کم، خط بر عذارِ سادہ آتا ہےکہ بعد از صافِ مے، ساغر میں دُردِ بادہ آتا ہے

۲

نہیں ہے مزرعِ الفت میں حاصل غیرِ پامالینظر دانہ، سرشکِ بر زمیں افتادہ، آتا ہے

۳

محیطِ دہر میں بالیدن، از ہستی گزشتن ہےکہ یاں ہر یک حباب آسا، شکست آمادہ آتا ہے

۴

دیارِ عشق میں جاتا ہے جو سوداگری ساماںمتاعِ زندگانی ہا بغاوت دادہ آتا ہے

۵

اسدؔ، وارستگاں با وصفِ ساماں بے تعلق ہیںصنوبر گلستاں میں با دلِ آزادہ آتا ہے

۱۵۸ / ۱۹۳