دیوانِ غالب کاملردیف ے
نگاہِ یار نے جب عرضِ تکلیفِ شرارت کی
۱
نگاہِ یار نے جب عرضِ تکلیفِ شرارت کیدیا ابرو کو چھیڑ اور اُس نے فتنے کو اشارت کی
۲
روانی موجِ مے کی، گر خطِ جام آشنا ہووےلکھے کیفیت اُس سطرِ تبسم کی عبارت کی
۳
شہِ گل نے کیا جب بندوبستِ گلشن آرائیعصائے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
۴
نہیں ریزش عرق کی، اب اسے ذوبانِ اعضا ہےتبِ خجلت نے یہ نبضِ رگِ گل میں حرارت کی
۵
ز بس نکلا غبارِ دل بہ وقتِ گریہ آنکھوں سےاسدؔ، کھائے ہوئے سر مے نے آنکھوں میں بصارت کی
۱۵۹ / ۱۹۳