دیوانِ غالب کاملردیف ے

خدایا، دل کہاں تک دن بہ صد رنج و تعب کاٹے

۱

خدایا، دل کہاں تک دن بہ صد رنج و تعب کاٹےخمِ گیسو ہو شمشیرِ سیہ تاب اور شب کاٹے!

۲

کریں گر قدرِ اشکِ دیدۂ عاشق، خود آرایاںصدف، دندانِ گوہر سے، بہ حسرت اپنے لب کاٹے

۳

دریغا! وہ مریضِ غم کہ فرطِ ناتوانی سےبہ قدرِ یک نفس جادہ، بہ صد رنج و تعب کاٹے

۴

یقیں ہے، آدمی کو دست گاہِ فقر حاصل ہودمِ تیغِ توکل سے اگر پائے سبب کاٹے

۵

ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرمِ نا رسائی سےکہ دستِ آرزو سے یک قلم پائے طلب کاٹے

۶

اسدؔ مجھ میں ہے اُس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت؟کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیرِ ادب کاٹے

۱۶۰ / ۱۹۳