سمجھاؤ اسے، یہ وضع چھوڑے
سمجھاؤ اسے، یہ وضع چھوڑےجو چاہے کرے، پہ دل نہ توڑے
Editors' notes
غزل: یہ غزل نسخۂ بھوپال کے حاشیے پر کسی دوسرے کے قلم سے درج ہے، اس لیے اسے ۱۸۱۶ کے بعد کے کلام میں رکھا گیا۔ مگر غزل کا اسلوب غالبؔ کے اسلوب سے میل نہیں کھاتا۔ اگر یہ غالبؔ ہی کا کلام ہے تو ابتدائی مشق کا نمونہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ ۲۰ سال کی عمر تک غالبؔ کے فکر و فن کی توانائی ظاہر ہو چکی تھی۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 9 in “سمجھاؤ اسے، یہ وضع چھوڑے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (دیوانِ غالب کامل).
Read it in the poem۱ / ۹