دیوانِ غالب کاملردیف ے

سمجھاؤ اسے، یہ وضع چھوڑے

۱

سمجھاؤ اسے، یہ وضع چھوڑےجو چاہے کرے، پہ دل نہ توڑے

۲

تقریر کا اس کی حال مت پوچھمعنیٰ ہیں بہت، تو لفظ تھوڑے

۳

نذرِ مژہ کر دل و جگر کوچیرے ہی سے جائیں گے یہ پھوڑے

۴

عاشق کو یہ چاہیے کہ ہر گزاندوہ سے، ڈر کے، منھ نہ موڑے

۵

آ جا لبِ بام، کوئی کب تکدیوار سے اپنے سر کو پھوڑے

۶

جاتے ہیں رقیب کو خط اس کےکاغذ کے دوڑتے ہیں گھوڑے

۷

غم خوار کو ہے قسم کہ زنہارغالبؔ کو نہ تشنہ کام چھوڑے

۸

حسرت زدہ طرب ہے یہ شخصدم جب کہ بہ وقتِ نزع توڑے

۹

پانی نہ چوائے اس کے منھ میںگل مے میں بھگو بھگو نچوڑے

۱۶۵ / ۱۹۳