دیوانِ غالب کاملردیف ی
بے خود زِ بس خاطرِ بے تاب ہو گئی
۱
بے خود زِ بس خاطرِ بے تاب ہو گئیمژگانِ باز ماندہ، رگِ خواب ہو گئی
۲
موجِ تبسمِ لب آلودۂ مسیمیرے لیے تو تیغِ سیہ تاب ہو گئی
۳
رخسارِ یار کی جو کھلی جلوہ گستریزلفِ سیاہ بھی، شبِ مہتاب ہو گئی
۴
بیدادِ انتظار کی طاقت نہ لا سکیاے جانِ بر لب آمدہ، بے تاب ہو گئی
۵
غالؔب، زِ بس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشکآنسو کی بوند گوہرِ نایاب ہو گئی
۱۰۱ / ۱۹۳