دیوانِ غالب کاملردیف ی

یہ سر نوشت میں میری ہے، اشک افشانی

۱

یہ سر نوشت میں میری ہے، اشک افشانیکہ موجِ آب ہے، ہر ایک چینِ پیشانی

۲

جنونِ وحشتِ ہستی، یہ عام ہے کہ بہاررکھے ہے کسوتِ طاؤس میں پر افشانی

۳

لبِ نگار میں آئینہ دیکھ، آبِ حیاتبہ گمرہیٔ سکندر ہے، محوِ حیرانی

۴

نظر بہ غفلتِ اہلِ جہاں، ہوا ظاہرکہ عیدِ خلق پہ حیراں ہے چشمِ قربانی

۵

کہوں وہ مصرعِ برجستہ وصفِ قامت میںکہ سرو ہو نہ سکے اُس کا مصرعِ ثانی

۶

اسدؔ نے کثرتِ دل ہائے خلق سے جاناکہ زلفِ یار ہے مجموعۂ پریشانی

۱۰۰ / ۱۹۳