دیوانِ غالب کاملردیف ی
دلا، عبث ہے تمنائے خاطر افروزی
۱
دلا، عبث ہے تمنائے خاطر افروزیکہ بوسۂ لبِ شیریں ہے اور گلو سوزی
۲
طلسمِ آئینہ زانوئے فکر ہے، غافلہنوز حسن کو ہے، سعیٔ جلوہ اندوزی
۳
ہوئی ہے سوزشِ دل، بس کہ داغِ بے اثریاُگی ہے دودِ جگر سے شبِ سیہ روزی
۴
بہ پَر فشانیٔ پروانۂ چراغِ مزار!کہ بعدِ مرگ بھی ہے لذتِ جگر سوزی
۵
تپش تو کیا، نہ ہوئی مشقِ پر فشانی بھیرہا میں ضعف سے شرمندۂ نو آموزی
۶
اسدؔ! ہمیشہ پئے کفشِ پائے سیم تناںشعاعِ مہر سے کرتا ہے چرخ زر دوزی
۱۰۳ / ۱۹۳