دیوانِ غالب کاملردیف ی
وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی؟
۱
وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی؟ہستی کو لفظِ معنیٔ عنقا کرے کوئی
۲
لختِ جگر سے ہے، رگِ ہر خار، شاخِ گلتا چند باغبانیٔ صحرا کرے کوئی
۳
جو کچھ ہے، محوِ شوخیٔ ابروئے یار ہےآنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
۴
ہر سنگ و خشت، ہے صدفِ گوہرِ شکستنقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
۵
ہے وحشتِ طبیعت ایجاد، یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
۶
ناکامیٔ نگاہ، ہے برقِ نظارہ سوزتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
۷
عرضِ سرشک پر ہے، فضائے زمانہ، تنگصحرا کہاں کہ دعوتِ دریا کرے کوئی
۸
خوانا نہیں ہے خط رقم اضطرار کاتدبیرِ پیچ تابِ نفس کیا کرے کوئی
۹
وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے، اسدؔدکھلا کے اس کو آئینہ توڑا کرے کوئی
۱۱۳ / ۱۹۳