دیوانِ غالب کاملردیف ی

پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کی

۱

پھونکتا ہے نالہ ہر شب صور اسرافیل کیہم کو جلدی ہے، مگر تو نے قیامت ڈھیل کی

۲

کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفیدہے جو آبی پیرہن، ہر موج رودِ نیل کی

۳

عرش پر تیرے قدم سے ہے، دماغِ گردِ راہآج تنخواہِ شکستن ہے کُلہ جبریل کی

۴

مدعا در پردہ، یعنی جو کہوں باطل سمجھوہ فرنگی زادہ کھاتا ہے قسم انجیل کی

۵

خیر خواہِ دید ہوں از بہرِ دفعِ چشم زخمکھینچتا ہوں اپنی آنکھوں میں سلائی نیل کی

۶

نالہ کھینچا ہے، سراپا داغِ جرأت ہوں، اسدؔکیا سزا ہے میرے جرمِ آرزو تاویل کی؟

۱۱۴ / ۱۹۳