دیوانِ غالب کاملردیف ل
بدر، ہے آئینۂ طاقِ ہلال
۱
بدر، ہے آئینۂ طاقِ ہلالغافلاں، نقصان سے پیدا ہے کمال
۲
ہے بہ یادِ زلفِ مشکیں سال و ماہروزِ روشن شامِ آں سوئے خیال
۳
بس کہ ہے اصلِ دمیدن ہا، غبارہے نہالِ شکوہ، ریحانِ سفال
۴
صافیٔ رخ سے ترے، ہنگامِ شبعکسِ داغِ مہ ہوا عارض پہ خال
۵
نور سے تیرے ہے اس کی روشنیورنہ ہے خورشید یک دستِ سوال
۶
شورِ حشر اُس فتنہ قامت کے حضورسایہ آسا ہو گیا ہے پائمال
۷
ہو جو بلبل پیروِ فکرِ اسدغنچۂ منقارِ گُل ہو زیرِ بال
۵۷ / ۱۹۳