دیوانِ غالب کاملردیف ل
ہوں بہ وحشت، انتظار آوارۂ دشتِ خیال
۱
ہوں بہ وحشت، انتظار آوارۂ دشتِ خیالاک سفیدی مارتی ہے دور سے، چشمِ غزال
۲
ہے نفس پروردہ، گلشن، کس ہوائے بام کا؟طوقِ قمری میں ہے، سروِ باغ، ریحانِ سفال
۳
ہم غلط سمجھے تھے، لیکن زخمِ دل پر رحم کرآخر اس پردے میں تو ہنستی تھی، اے صبحِ وصال
۴
بے کسی افسردہ ہوں، اے ناتوانی، کیا کروں؟جلوۂ خرشید سے ہے گرم، پہلوئے ہلال
۵
شکوہ درد و درد داغ، اے بے وفا، معذور رکھخوں بہائے یک جہاں اُمید ہے، تیرا خیال
۶
عرضِ دردِ بے وفائی، وحشتِ اندیشہ ہےخوں ہوا دل تا جگر، یا رب زبانِ شکوہ لال
۷
اُس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے، اسدؔمالِ سُنّی کو مباح اور خونِ صوفی کو حلال
۵۸ / ۱۹۳