دیوانِ غالب کاملردیف ن
مرگِ شیریں ہو گئی تھی کوہ کن کی فکر میں
۱
مرگِ شیریں ہو گئی تھی کوہ کن کی فکر میںتھا، حریرِ سنگ سے، قطعِ کفن کی فکر میں
۲
فرصتِ یک چشمِ حیرت، شش جہت آغوش ہےہوں سپند آسا وداعِ انجمن کی فکر میں
۳
وہ غریبِ وحشت آبادِ تسلی ہوں، جسےکوچہ دے ہے زخمِ دل، صبحِ وطن کی فکر میں
۴
سایۂ گل داغ و جوشِ نکہتِ گل موجِ دُودرنگ کی گرمی ہے تاراجِ چمن کی فکر میں
۵
فالِ ہستی، خار خارِ وحشتِ اندیشہ ہےشوخیٔ سوزن ہے ساماں پیرہن کی فکر میں
۶
غفلتِ دیوانہ، جز تمہیدِ آگاہی نہیںمغزِ سر، خوابِ پریشاں ہے، سخن کی فکر میں
۷
مجھ میں اور مجنوں میں، وحشت سازِ دعویٰ ہے، اسدؔبرگ برگِ بید ہے ناخن زدن کی فکر میں
۶۸ / ۱۹۳