دیوانِ غالب کاملردیف ن
اے نوا سازِ تماشا، سر بہ کف جلتا ہوں میں
۱
اے نوا سازِ تماشا، سر بہ کف جلتا ہوں میںیک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
۲
شمع ہوں، لیکن بپا در رفتہ خارِ جستجومدعا گم کردہ، ہر سو، ہر طرف جلتا ہوں میں
۳
ہے، مساسِ دستِ افسوس، آتش انگیزِ تپشبے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
۴
ہے تماشا گاہِ سوزِ تازہ، ہر یک عضوِ تنجوں چراغانِ دوالی، صف بہ صف جلتا ہوں میں
۵
شمع ہوں، تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرحبے محل، اے مجلس آرائے نجف! جلتا ہوں میں
۶۹ / ۱۹۳