دیوانِ غالب کاملردیف ن
فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیں
۱
فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیںبہ رنگِ جادہ، سرِ کوئے یار رکھتے ہیں
۲
برہنہ مستیٔ صبحِ بہار رکھتے ہیںجنونِ حسرتِ یک جامہ دار رکھتے ہیں
۳
طلسمِ مستیٔ دل آں سوئے ہجومِ سرشکہم ایک مے کدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
۴
ہمیں، حریرِ شرر بافِ سنگ، خلعت ہےیہ ایک پیرہنِ زرنگار رکھتے ہیں
۵
نگاہِ دیدۂ نقشِ قدم ہے جادۂ راہگزشتگاں، اثرِ انتظار رکھتے ہیں
۶
ہوا ہے، گریۂ بے باک، ضبط سے تسبیحہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
۷
بساطِ ہیچ کسی میں، بہ رنگِ ریگِ رواںہزار دل بہ وداعِ قرار رکھتے ہیں
۸
بہ رنگ سایہ سروکارِ انتظار نہ پوچھسراغِ خلوتِ شب ہائے تار رکھتے ہیں
۹
جنونِ فرقتِ یارانِ رفتہ ہے، غالبؔبسانِ دشت، دلِ پُر غبار رکھتے ہیں
۷۰ / ۱۹۳