دیوانِ غالب کاملردیف ن

خوں در جگر نہفتہ، بہ زردی رسیدہ ہوں

۱

خوں در جگر نہفتہ، بہ زردی رسیدہ ہوںخود آشیانِ طائرِ رنگِ پریدہ ہوں

۲

ہے دستِ رد بہ سیرِ جہاں، بستنِ نظرپائے ہوس بہ دامنِ مژگاں کشیدہ ہوں

۳

میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریبلیکن عبث کہ شبنمِ خرشید دیدہ ہوں

۴

تسلیم سے یہ نالۂ موزوں ہوا حصولاے بے خبر، میں نغمۂ چنگِ خمیدہ ہوں

۵

پیدا نہیں ہے اصلِ تگ و تازِ جستجومانندِ موجِ آب، زبانِ بریدہ ہوں

۶

سر پر مرے وبالِ ہزار آرزو رہایا رب، میں کس غریب کا بختِ رمیدہ ہوں

۷

میں بے ہنر کہ جوہرِ آئینہ تھا، عبثپائے نگاہِ خلق میں خارِ خلیدہ ہوں

۸

میرا نیاز و عجز ہے مفتِ بتاں، اسدؔیعنی کہ بندۂ بہ درم نا خریدہ ہوں

۷۲ / ۱۹۳