دیوانِ غالب کاملردیف ن

سودائے عشق سے دمِ سردِ کشیدہ ہوں

۱

سودائے عشق سے دمِ سردِ کشیدہ ہوںشامِ خیالِ زلف سے صبحِ دمیدہ ہوں

۲

دورانِ سر سے گردشِ ساغر ہے متصلخمخانۂ جنوں میں دماغِ رسیدہ ہوں

۳

کی متصل ستارہ شماری میں عمر، صرفتسبیحِ اشک ہائے ز مژگاں چکیدہ ہوں

۴

ظاہر ہیں مری شکل سے افسوس کے نشاںخارِ الم سے، پشت بہ دنداں گزیدہ ہوں

۵

دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سرِ تپشمضرابِ تار ہائے گلوئے بریدہ ہوں

۶

ہے جنبشِ زباں بدہن سخت ناگوارخونابۂ ہلاہلِ حسرت چشیدہ ہوں

۷

جوں بوئے گل، ہوں گر چہ گرانبارِ مشتِ زرلیکن، اسدؔ، بہ وقتِ گزشتن جریدہ ہوں

۷۳ / ۱۹۳