دیوانِ غالب کاملردیف ن
بے دماغی، حیلہ جوئے ترکِ تنہائی نہیں
۱
بے دماغی، حیلہ جوئے ترکِ تنہائی نہیںورنہ کیا موجِ نفس، زنجیرِ رسوائی نہیں؟
۲
وحشیٔ خو کردۂ نظارہ ہے، حیرت، جسےحلقۂ زنجیر، جز چشمِ تماشائی نہیں
۳
قطرے کو جوشِ عرق کرتا ہے دریا دستگاہجز حیا، پر کارِ سعیٔ بے سروپائی نہیں
۴
چشمِ نرگس میں نمک بھرتی ہے شبنم سے، بہارفرصتِ نشو و نما، سازِ شکیبائی نہیں
۵
کس کو دوں، یا رب، حسابِ سوز ناکی ہائے دل؟آمد و رفتِ نفس، جز شعلہ پیمائی نہیں
۶
مت رکھ، اے انجام غافل! سازِ ہستی پر غرورچیونٹی کے پر، سر و برگِ خود آرائی نہیں
۷
سایۂ افتادگی بالین و بستر ہوں، اسدؔجوں صنوبر، دل سراپا قامت آرائی نہیں
۷۵ / ۱۹۳