دیوانِ غالب کاملردیف ن

ہوئی ہیں آب، شرمِ کوششِ بے جا سے، تدبیریں

۱

ہوئی ہیں آب، شرمِ کوششِ بے جا سے، تدبیریںعرق ریزِ تپش ہیں، موج کی مانند، زنجیریں

۲

خیالِ سادگی ہائے تصور، نقشِ حیرت ہےپرِ عنقا پہ رنگِ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں

۳

ز بس ہر شمع یاں آئینۂ حیرت پرستی ہےکرے ہیں غنچۂ منقارِ طوطی نقش گل گیریں

۴

سپند، آہنگیٔ ہستی و سعیٔ نالہ فرسائیغبار آلودہ ہیں، جوں دودِ شمعِ کشتہ، تقریریں

۵

ہجومِ سادہ لوحی، پنبۂ گوشِ حریفاں ہےوگرنہ خواب کی مضمر ہیں افسانے میں، تعبیریں

۶

بتانِ شوخ کی تمکینِ بعد از قتل کی حیرتبیاضِ دیدۂ نخچیر پر کھینچے ہے تصویریں

۷

اسدؔ، طرزِ عروجِ اضطرابِ دل کو کیا کہیےسمجھتا ہوں تپش کو الفتِ قاتل کی تاثیریں

۷۴ / ۱۹۳