دیوانِ غالب کاملردیف ن
پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں
۱
پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیںمیرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
۲
آہ کا، کس نے، اثر دیکھا ہے؟ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
۳
حسنِ افسردہ دلی ہا رنگیںشوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
۴
تیرے بیمار پہ ہیں فریادیوہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
۵
قید میں بھی ہے، اسیری، آزادچشمِ زنجیر کو وا باندھتے ہیں
۶
شیخ جی کعبے کا جانا معلومآپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
۷
کس کا دل زلف سے بھاگا؟ کہ اسدؔدستِ شانہ بہ قفا باندھتے ہیں
۸۴ / ۱۹۳