دیوانِ غالب کاملردیف و
منقار سے رکھتا ہوں بہم چاکِ قفس کو
۱
منقار سے رکھتا ہوں بہم چاکِ قفس کوتا گل ز جگر زخم میں ہے راہِ نفس کو
۲
بے باک ہوں از بس کہ بہ بازارِ محبتسمجھا ہوں زرہ جوہرِ شمشیرِ عسس کو
۳
رہنے دو گرفتار بہ زندانِ خموشیچھیڑو نہ مجھ افسردہ دزدیدہ نفس کو
۴
پیدا ہوئے ہیں ہم الم آبادِ جہاں میںفرسودنِ پائے طلب و دستِ ہوس کو
۵
نالاں ہو، اسدؔ، تو بھی سرِ راہ گزر پرکہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریادِ جرس کو
۸۵ / ۱۹۳