دیوانِ غالب کاملردیف ر

بس کہ مائل ہے وہ رشکِ ماہتاب آئینے پر

۱

بس کہ مائل ہے وہ رشکِ ماہتاب آئینے پرہے نفس، تارِ شعاعِ آفتاب آئینے پر

۲

بازگشتِ جادہ پیمائے رہِ حیرت کہاں؟غافلاں غش جان کر، چھڑکے ہیں آب آئینے پر

۳

بدگماں کرتی ہے عاشق کو خود آرائی تریبے دلوں کو ہے براتِ اضطراب آئینے پر

۴

نازِ خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہجوہرِ شمشیر کو ہے پیچ و تاب آئینے پر

۵

ناتوانی نے نہ چھوڑا بس کہ بیش از عکسِ جسممفت وا گستردنی ہے، فرشِ خواب آئینے پر

۶

مدعی میرے صفائے دل سے ہوتا ہے خجلہے تماشا زشت رویوں کا عتاب آئینے پر

۷

سد اسکندر بنے بہرِ نگاہ گل رخاںگر کرے یوں امر، نہی بو تراب، آئینے پر

۸

دل کو توڑا جوشِ بے تابی سے، غالبؔ کیا کیا؟رکھ دیا پہلو بہ وقتِ اضطراب آئینے پر؟

۴۰ / ۱۹۳