دیوانِ غالب کاملردیف ر
دنداں کا خیال، چشمِ تر، کر
۱
دنداں کا خیال، چشمِ تر، کرہر دانۂ اشک کو گہر کر
۲
آتی نہیں نیند، اے شبِ تارافسانۂ زلفِ یار سر کر
۳
اے دل، بہ خیالِ عارض یاریہ شامِ غم آپ پر سحر کر
۴
ہر چند امیدِ دور تر ہواے حوصلے! سعیٔ بیشتر کر
۵
میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھیاے بے خبری، اسے خبر کر
۶
افسانہ، اسدؔ، بہ ایں درازیاے غم زدہ! قصہ مختصر کر
۴۱ / ۱۹۳