دیوانِ غالب کاملردیف و
مبادا! بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
۱
مبادا! بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہومگر طوفانِ مے میں پیچشِ موجِ صبا گم ہو
۲
سبب وارستگاں کو ننگِ ہمت ہے، خداوندااثر سرمے سے اور لب ہائے عاشق سے صدا گم ہو
۳
نہیں جز درد، تسکینِ نکوہش ہائے بے درداںکہ موجِ گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
۴
ہوئی ہے ناتوانی، بے دماغِ شوخیٔ مطلبفرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
۵
تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چینِ جبیں، لیکنمباد، اے پیچ تابِ طبع، نقشِ مدّعا گم ہو
۶
بلا گردانِ تمکینِ بتاں، صد موجۂ گوہرعرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیفِ حیا گم ہو
۷
اُٹھا وے کب وہ جانِ شرم تہمت قتلِ عاشق کیکہ جس کے ہاتھ میں، مانندِ خوں، رنگِ حنا گم ہو
۸
کریں خوباں جو سیرِ حسن، اسدؔ، یک پردہ نازک تردمِ صبحِ قیامت، در گریبانِ قبا گم ہو
۸۸ / ۱۹۳