دیوانِ غالب کاملقطعات

مقامِ شکر ہے، اے ساکنانِ خطہ خاک

۱

مقامِ شکر ہے، اے ساکنانِ خطہ خاکرہا ہے زور سے، ابر ستارہ بار، برس

۲

کہاں ہے ساقی مہوش، کہاں ہے ابرِ مُطیر"بیار" لا مئے گلنار گوں، "ببار" برس

۳

خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانیدرِ حضور پر، اے ابر، بار بار برس

۴

ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک، وہ کہے"امیر کلب علی خاں جئیں ہزار برس"

۵

فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیںکئی ہزار برس، بلکہ بے شمار برس

۶

جنابِ قبلہ حاجات، اس بلا کش نےبڑے عذاب سے کاٹے ہیں، پانچ چار برس

۷

شفا ہو آپ کو، غالبؔ کو بندِ غم سے نجاتخدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس

۱۷۶ / ۱۹۳