در پر امیرِ کلب علی خاں کے ہوں مقیم
در پر امیرِ کلب علی خاں کے ہوں مقیمشائستۂ گدائیٔ ہر در نہیں ہوں میں
Editors' notes
قطعہ: مرزا صاحب نے اس زمین میں اپنی برسوں پرانی غزل کا مقطع حذف کر کے اور آخر میں یہ دو شعر بڑھا کر، نواب کلب علی خاں بہادر، والیٔ رامپور، کی خدمت میں ۹ جون ۱۸۶۶ء کو بھیجی تھی۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 2 in “در پر امیرِ کلب علی خاں کے ہوں مقیم” in the section Qitas, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (دیوانِ غالب کامل).
Read it in the poem۱ / ۲