دیوانِ غالب کاملرباعیات
بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھے
۱
بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھےدر بزمِ وفا خجل نشینی ہے مجھےمحرومِ صدا رہا بغیر از یک تارابریشمِ ساز، موئے چینی ہے مجھے
۱۸۴ / ۱۹۳
دیوانِ غالب کاملرباعیات
بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھےدر بزمِ وفا خجل نشینی ہے مجھےمحرومِ صدا رہا بغیر از یک تارابریشمِ ساز، موئے چینی ہے مجھے
۱۸۴ / ۱۹۳