بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھے

بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھےدر بزمِ وفا خجل نشینی ہے مجھےمحرومِ صدا رہا بغیر از یک تارابریشمِ ساز، موئے چینی ہے مجھے

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھے⁩” in the section Rubaiyat, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (⁨دیوانِ غالب کامل⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱