دیوانِ غالب کاملرباعیات
گلخن، شرر اہتمام بستر ہے آج
۱
گلخن، شرر اہتمام بستر ہے آجیعنی تبِ عشق شعلہ پرور ہے آجہوں دردِ ہلاکِ نامہ بر سے بیمارقارورہ مرا خونِ کبوتر ہے آج
۱۸۶ / ۱۹۳
دیوانِ غالب کاملرباعیات
گلخن، شرر اہتمام بستر ہے آجیعنی تبِ عشق شعلہ پرور ہے آجہوں دردِ ہلاکِ نامہ بر سے بیمارقارورہ مرا خونِ کبوتر ہے آج
۱۸۶ / ۱۹۳