دیوانِ غالب کاملرباعیات

دل، سوزِ جنوں سے جلوہ منظر ہے آج

۱

دل، سوزِ جنوں سے جلوہ منظر ہے آجنیرنگِ زمانہ، فتنہ پرور ہے آجیک تارِ نفس میں، جوں طنابِ صباغہر پارۂ دل، بہ رنگِ دیگر ہے آج

۱۸۷ / ۱۹۳