دل، سوزِ جنوں سے جلوہ منظر ہے آج

دل، سوزِ جنوں سے جلوہ منظر ہے آجنیرنگِ زمانہ، فتنہ پرور ہے آجیک تارِ نفس میں، جوں طنابِ صباغہر پارۂ دل، بہ رنگِ دیگر ہے آج

Editors' notes

رباعی: یہ رباعی سید الاخبار دہلی، جلد ۸، شمارہ ۲۸، ۱۶ نومبر ۱۸۵۰ء میں شائع ہوئی تھی۔

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨دل، سوزِ جنوں سے جلوہ منظر ہے آج⁩” in the section Rubaiyat, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib Kamil (⁨دیوانِ غالب کامل⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱