جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع

جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاعچرخ وا کرتا ہے ماہِ نو سے آغوشِ وداع

Editors' notes

شعر: متداول دیوان میں یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے۔ باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 1 of 6 in “⁨جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع⁩” in the section Ghazals — Radeef Ain, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۶