نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

کاؤ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی، نہ پوچھصبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

Editors' notes

کاؤکاو: اکثر مروجہ نسخوں میں "کاوِ کاوِ" درج ہے اور لوگ بے خیالی میں اسی طرح پڑھتے ہیں۔ بعض حضرات نے "کاؤ کاؤ" بھی لکھا ہے جس کا یہاں کوئی محل نہیں۔ کاؤ = کاوش ۔ علی العموم "کاؤ کاؤ" بہ تکرار مستعمل ہے۔ اس مصرع میں "کاؤکاوِ" پڑھنا چاہیے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 4 of 9 in “⁨نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۴ / ۹