دیوانِ غالبردیف الف

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

۱

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

۲

شوخیٔ نیرنگ، صیدِ وحشتِ طاؤس ہےدام، سبزے میں ہے پروازِ چمن تسخیر کا

۳

لذّتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتلنعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا

۴

کاؤ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی، نہ پوچھصبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

۵

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

۶

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

۷

خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداعپُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا

۸

وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔجو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

۹

بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

۱ / ۳۰۷