نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔجو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

Editors' notes

مزہ: نسخۂ حمیدیہ میں "مزہ" نسخۂ عرشی میں "مژہ"۔ ہم نے حمیدیہ کے متن کو ترجیح دی ہے۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 8 of 9 in “⁨نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۸ / ۹