عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

شب نظارہ پرور تھا خواب میں خرام اس کاصبح موجۂ گل کو نقشِ بوریا پایا

Editors' notes

خرام: نسخۂ حمیدیہ میں "خیال" بجائے "خرام"۔ — جویریہ مسعودنقش: نسخۂ حمیدیہ میں "وقف" بجائے "نقش"۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 6 of 10 in “⁨عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۶ / ۱۰