دیوانِ غالبردیف الف
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
۱
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
۲
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
۳
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
۴
فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پاعضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا
۵
حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا
۶
شب نظارہ پرور تھا خواب میں خرام اس کاصبح موجۂ گل کو نقشِ بوریا پایا
۷
جس قدر جگر خوں ہو، کوچہ دادنِ گل ہےزخمِ تیغِ قاتل کو طُرفہ دل کشا پایا
۸
ہے نگیں کی پا داری نامِ صاحبِ خانہہم سے تیرے کوچے نے نقشِ مدّعا پایا
۹
دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
۱۰
نَے اسدؔ جفا سائل، نَے ستم جنوں مائلتجھ کو جس قدر ڈھونڈھا الفت آزما پایا
۵ / ۳۰۷