دیوانِ غالبردیف الف
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
۱
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا"عشقِ نبرد پیشہ" طلب گارِ مرد تھا
۲
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوااڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
۳
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میںمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
۴
دل تا جگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اباس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا
۵
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی!دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
۶
احباب چارہ سازیٔ وحشت نہ کر سکےزنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا
۷
یہ لاشِ بے کفن اسدِؔ خستہ جاں کی ہےحق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
۸ / ۳۰۷