دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا"عشقِ نبرد پیشہ" طلب گارِ مرد تھا

Editors' notes

جو: شارحینِ کلام کے نزدیک وقفہ "جو" کے بجائے "گیا" کے بعد ہے۔ — حامد علی خاں حامد علی خاں کے نسخے میں یہ مصرع یوں ہے: ؏ دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نبرد تھا — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 1 of 7 in “⁨دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۷