ز بس خوں گشتۂ رشکِ وفا تھا وہم بسمل کا

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستیعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

Editors' notes

اشعار: اس غزل کا صرف یہ اور اگلا شعر مروجہ دیوان کا حصہ ہیں، باقی نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 5 of 7 in “⁨ز بس خوں گشتۂ رشکِ وفا تھا وہم بسمل کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۵ / ۷