دیوانِ غالبردیف الف

ز بس خوں گشتۂ رشکِ وفا تھا وہم بسمل کا

۱

ز بس خوں گشتۂ رشکِ وفا تھا وہم بسمل کاچرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغِ قاتل کا

۲

نگاہِ چشمِ حاسد وام لے، اے ذوقِ خود بینیتماشائی ہوں، وحدت خانۂ آئینۂ دل کا

۳

شرر فرصت نگہ، سامانِ یک عالم چراغاں ہےبہ قدرِ رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا

۴

سراسر تاختن کو، شش جہت یک عرصہ جولاں تھاہوا واماندگی سے رہرواں کی، فرق منزل کا

۵

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستیعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

۶

بہ قدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھیجو تو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

۷

مجھے راہِ سخن میں خوفِ گمراہی نہیں غالبؔعصائے خضرِ صحرائے سخن ہے، خامہ بیدلؔ کا

۱۳ / ۳۰۷