دیوانِ غالبردیف الف

محرم نہیں ہے تو ہی، نوا ہائے راز کا

۱

محرم نہیں ہے تو ہی، نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

۲

رنگِ شکستہ، صبحِ بہارِ نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا

۳

تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیزمیں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا

۴

صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میںطُعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کا

۵

ہیں بس کہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہےہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا

۶

کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوزناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا

۷

تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ!سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا

۱۴ / ۳۰۷