دیوانِ غالبردیف الف
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
۱
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
۲
تجاہل پیشگی سے مدعا کیاکہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
۳
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوںشکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
۴
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوںتغافل ہائے تمکیں آزما کیا
۵
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہےہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
۶
نفس موجِ محیطِ بے خودی ہےتغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
۷
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہےغمِ آوارگی ہائے صبا کیا
۸
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ "انا البحر"ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
۹
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھشہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
۱۰
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سنشکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
۱۱
کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
۱۲
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
۱۳
بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر باتعبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
۲۳ / ۳۰۷