دیوانِ غالبردیف الف

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

۱

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

۲

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہمالٹے پھر آئے، درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا

۳

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کاروبرو کوئی بتِ آئینہ سیما نہ ہوا

۴

کم نہیں نازشِ ہمنامیٔ چشمِ خوباںتیرا بیمار، برا کیا ہے؟ گر اچھا نہ ہوا

۵

سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیاخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

۶

نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملاکام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا

۷

ہر بُنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خوننابحمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا

۸

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُلکھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا

۹

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اُڑیں گے پرزےدیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا

۱۰

نام کا ہے میرے وہ دکھ جو کسی کو نہ ملاکام کا ہے مِرے وہ فتنہ کہ برپا نہ ہوا

۲۴ / ۳۰۷