درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملاکام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
Editors' notes
شعر: ؏ کام کا ہے مرے وہ فتنہ کہ برپا نہ ہوا (نسخۂ حسرت، نسخۂ مہر) — جویریہ مسعود مزید: نسخۂ مہر اور حسرت موہانی میں یہ شعر یوں ملتا ہے: ؎ نام کا ہے میرے وہ دکھ جو کسی کو نہ ملا کام کا ہے مِرے وہ فتنہ کہ برپا نہ ہوا اس ترتیب الفاظ کے ظاہری حسن کے باوجود دوسرے قدیم و جدید نسخے سے یہ ثبوت نہیں ملا کہ غالبؔ نے خود یہ شعر یوں بدل دیا تھا۔ غالبؔ کو شاید دوسرے مصرع کا وہ مفہوم مطلوب ہی نہ تھا جو "کام کا" سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے قدیم و جدید نسخوں کے علاوہ عرشی، طباطبائی، مالک رام اور بیخود دہلوی کے نسخوں میں بھی یہ شعر یوں ہی ملا ہے جیسا کہ متن میں درج ہوا ہے اور نسخۂ نظامی مطبوعۂ ۱۸۶۲ میں بھی اسی طرح چھپا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 6 of 10 in “درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۶ / ۱۰