دیوانِ غالبردیف الف
گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گا
گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گابے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہو جائے گا
زہرہ، گر ایسا ہی شامِ ہجر میں، ہوتا ہے آبپرتوِ مہتاب سیلِ خانماں ہو جائے گا
لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگرایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا
دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جائے گا
سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا
گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبطشعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہو جائے گا
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک "چشمِ خوں فشاں" ہو جائے گا
وائے گر میرا، ترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
گر وہ مستِ ناز دیوے گا صلائے عرضِ حالخارِ گُل، بہرِ دہانِ گُل زباں ہو جائے گا
گر شہادت آرزو ہے، نشے میں گستاخ ہوبال شیشے کا، رگِ سنگِ فساں ہو جائے گا
فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔدوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہو جائے گا
۲۷ / ۳۰۷