دیوانِ غالبردیف الف

درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا

۱

درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

۲

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گِلا نہ ہوا

۳

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

۴

کتنے شیریں ہیں تیرے لب، "کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا"

۵

ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

۶

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

۷

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

۸

زخم گر دب گیا، لہو نہ تھماکام گر رک گیا، روا نہ ہوا

۹

رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟لے کے دل، "دلستاں" روانہ ہوا

۱۰

کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا!

۲۸ / ۳۰۷